بنگلورو،28؍مارچ(ایس او نیوز) اے آئی سی سی جنرل سکریٹری اور بنگلور ساؤتھ حلقے سے کانگریس کے امیدوار بی کے ہری پرساد نے ریاست میں جے ڈی ایس قائدین اور بڑے تاجروں کے ٹھکانوں پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپوں کو جانبدارانہ قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ملک میں سی بی آئی ، آئی ٹی اور دیگر آئینی ادارے سرکاری ایجنسی کے طورباقی نہیں رہے ہیں۔
اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سی بی آئی ، انکم ٹیکس ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانا پچھلے پانچ سال کے دوران مودی حکومت کی پہچان رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایجنسیاں اس وقت کیا کررہی تھیں جب للت مودی، نیرو مودی ، وجئے ملیا اور میہول چوکسی بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے۔ ہر بار ریاست میں ڈی کے شیوکمار یا کسی اور کانگریسی وزیر یا لیڈر کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے اور اب جے ڈی ایس قائدین کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ یہاں تک کہ اپنی سیاسی ہوس پورا کرنے کے لئے مودی نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو مقدموں میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک طرف ملک میں فرق پرستی اور کرپشن کو ختم کرنے کے لئے ہم خیال سیکولر سیاسی جماعتیں متحد ہوئی ہیں تو دوسری طرف کرپشن کو برقرار رکھنے کے لئے بی جے پی نے محکمۂ انکم ٹیکس ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ، سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے پانچ سال کے دوران مودی نے ملک بھر میں خوف ودہشت کا ماحول برپا کردیا ہے، اب ملک کے عوام خاص طور پر اقلیتوں ، پسماندہ طبقات اور خواتین کو خوف کے اس ماحول سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ٹمکور پارلیمانی حلقے سے جے ڈی ایس امیدوار دیوے گوڈا کے خلاف باغی امیدوار مدو ہنومے گوڈا کے میدان میں اترنے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہری پرساد نے کہاکہ مدو ہنومے گوڈا ایک اچھے سیاسی قائدہیں اور پچھلے پانچ سال کے دوران بحیثیت رکن پارلیمان انہوں نے بہترین خدمت انجام دی ہیں۔ اب کانگریس جے ڈی ایس اتحاد قائم ہونے کے بعد یہ حلقہ جے ڈی ایس کو دیا گیا ہے تو انہیں پارٹی اعلیٰ کمان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمیشور ، ایس پی مدو ہنومے گوڈا کو اس بات کے لئے منانے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ اپنی نامز دگی واپس لے لیں۔